Friday, April 1, 2022

न्यूज़ अलिमिआ जमदा शाही बस्ती

0 comments

 *_ڈاکٹر انوار کے جلسہ ملتوی کرنے کی اصل وجہ سامنے آ ہی گئی۔_*


ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرز منافقت

دنیا  ترے  مزاج  کا  بندہ  نہیں  ہوں میں


    اولًا تو لوگوں کو یہ علم ہونا چاہئے کہ تقریبًا ۳ سال قبل جب علیمیہ میں اسٹرائک ہوئی تھی اس وقت سے لےکر آج تک ڈاکٹر انوار لوگوں کی طرف سے کئے گئے سوالات کے جوابات نہیں دے سکا، طلبۂ علیمیہ مختلف مدارس میں گئے اور مختلف علماء سے انھوں نے ملاقات کی اور ڈاکٹر کے سارے گندے نظریات اور اس کی گمراہی کو واضح کیا، اس وقت سے لیکر آج تک ہندوستان کے محتاط اور بڑے علماء نے اس کا بائیکاٹ کیا اور اس کے ساتھ پروگرام کرنے سے منع کیا اور اسی وجہ سے ڈاکٹر کے کئی پروگرام کینسل ہوئے اور کئی علماء نے اس کا نام دیکھ کر اپنا پروگرام کینسل کردیا، آپ کو یاد ہونا چاہئے کہ اڑیسہ کے قدوسی پروگرام میں ڈاکٹر کا نام ہونے کی وجہ سے سابق صدر المدرسین جامع معقول و منقول حضرت علامہ و مولانا نعیم اللہ خان نوری صاحب اور آپ کے شہزادے نے پروگرام کینسل کیا اور تحریری وضاحت بھی وائرل کی، خاندان اعلیحضرت کے چشم و چراغ حضرت علامہ و مولانا تسلیم رضا صاحب نے خود جمدا شاہی کا پروگرام کینسل کیا تھا، کئی علماء نے تو ڈاکٹر کو بلانے سے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وہی انوار جس نے مصر سے عورت کو بلا کر ایک مہینہ غیر محرم کے ساتھ سفر کروایا تھا، انھیں محتاط اور تقوی شعار علماء میں ایک نام گل گلزار سیادت، عاشق اعلیحضرت پیر طریقت گلزار ملت حضرت علامہ و مولانا سید شاہ گلزار اسماعیلی صاحب قبلہ کا بھی ہے اور آپ نے بھی ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے پروگرام کی تاریخ کو کینسل کیا یا اسی کی تاریخ کینسل کروائی اور بائیکاٹ کیا، جس کا علم ڈاکٹر کو اچھی طرح سے ہے اور یہ انھیں دنوں سے سید صاحب سے حسد و کینہ رکھتا ہے، اور آپ کی عداوت سینے میں لئے گھوم رہا ہے،


     دوسری بات یہ کہ جمدا شاہی والوں کو یاد ہونا چاہئے کہ دو سال قبل جمدا شاہی میں سید گلزار میاں صاحب کا آنا ہوا تھا تو ڈاکٹر نے مدرسے کے گیٹ پر تالا لگوا دیا تھا حالانکہ کہ مفتی اختر حسین قادری صاحب نے سید صاحب کو مدرسے میں مدعو بھی کیا تھا مگر تالا لگنے کی وجہ سے آپ کو واپس جانا پڑا اور طلبہ بھی آپ کی زیارت سے محروم رہ گئے جس کے سیکڑوں طلبہ شاہد ہیں، یہ سب اسی نفرت و عداوت کی آگ کا نتیجہ تھا جس کی دل سوز حرارت آج بھی محسوس ہورہی ہے کہ ۲۲ مارچ ۲۰۲۲ کا سید صاحب کا پروگرام کینسل کیا، اور اسی حسد کی بد بُو کو چھپانے کےلئے ڈاکٹر نے ۲۶ مارچ کو لیٹر پیڈ جاری کیا ہے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کی ناپاک کوشش کر رہا ہے حالانکہ خود جانتا ہے کہ یہ میٹھے میٹھے جملے صرف گدھوں یا انواریوں کو ہی اچھے لگتے ہیں حقیقت کے متلاشیوں کو نہیں، اور صدر شعبۂ افتاء کے منصب کو وجہ بنانا لوگوں کو حقیقت سے دور کرنا اور گمراہ کرنا ہے، بالفرض اگر آپ کی بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ مفتی صاحب صدر شعبۂ افتاء نہیں تو بھی پروگرام کینسل کرنا بے وقوفی سے خالی نہیں تھا اس لئے کہ اگر شیخ الحدیث کے نام کے ساتھ صدر المدرسین لکھ دیا گیا ہے تو کوئی پروگرام کینسل نہیں کرتا بلکہ زیادہ تکلیف ہوتی ہے تو نیا پوسٹر شائع کرتا ہے ناکہ پروگرام کینسل، 


     دیکھیں ذرا اندھوں کو اندھیرے میں کتنے دور کی سوجھتی ہے کہ پروگرام کینسل ہوا ۲۱ مارچ کو اور ان کو ۲۶ مارچ کو دکھائی دیا کہ پوسٹر پر صدر شعبۂ افتاء کہاں لکھا ہے، اور فاتح ہائی لینڈ پیکر مکر و دجل صاحب کو کچھ نہیں سمجھ میں آیا تو حضور مبلغ اسلام علیہ‌الرحمۃ کے نام کو لیکر اندھیرے میں تیر مارنے لگا کہ ہوسکتا ہے کوئی جانور شکار ہوجائے مگر چمگادڑوں کے علاوہ اندھیرے میں ہاتھ آئے گا کیا؟


    ڈاکٹر صاحب آپ بتائیں کہ اسٹرائک کے بعد سے اب تک سید گلزار میاں صاحب کے ساتھ کتنے پروگرام کئے؟

     آپ بتائیں اسٹرائک سے پہلے جب گلزار میاں صاحب جمدا شاہی میں تشریف لائے تھے تو کیا آپ نے حضرت سے ملاقات کی تھی؟

      آپ بتائیں کہ ۲ سال قبل جب سید صاحب جمدا شاہی تشریف لائے تھے تو کیا آپ ملنے گئے تھے؟

       آپ بتائیں کہ ۲۲ مارچ کے دن پرینا جو کہ مدرسے سے ۲ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے سید صاحب کا پروگرام ہوا، کیا آپ نے زیارت کا شرف حاصل کیا؟ جوکہ آپ کے کینسل کرنے کہ بنا پر وہاں پروگرام ہوا تھا۔

     آپ بتائیں کیا خلیفۂ سرکار اعلیحضرت علامہ عبدالعلیم میرٹھی علیہ‌الرحمۃ کے نام کے ساتھ "مبلغ اسلام" نہ لکھنے سے آدمی حضرت کا حاسد ہو جاتا ہے؟ کیا آپ القاب کو لیکر بحث کرنے والے آدمی کو دانا سمجھتے ہیں؟

      آپ بتائیں کہ ہائی لینڈی کی وجہ تردید اور آپ کی وجہ تردید الگ کیوں ہے؟ حالانکہ کہ اختلاف تو اسی دن ہوگیا تھا۔

     آپ یہ بتائیں کہ پوسٹر میں کمی ہوجانے سے اب تک کتنے پروگرام کینسل کئےگئے ہیں؟ (اس کا جواب تو آپ نہیں دے سکتے اس لئے کہ اتنا بڑا بے وقوف ہندوستان میں کیا پوری دنیا میں آپ کو نہیں ملے گا کہ پوسٹر میں کچھ کمی ہوگئی ہو تو پورا پروگرام ہی کینسل کردیا ہو۔)

     آپ بتائیں کیا آپ ہائی لینڈی کے لفظی اختلاف سے اتفاق رکھتے ہیں؟

      آپ بتائیں اور کونسی قابل تنازع بات پوسٹر میں تھی ان دو کلمات کے علاوہ ۱۔ صدر شعبۂ افتاء ۲۔ مبلغ اسلام، اس لئے کہ آپ نے اپنے وضاحت نامے میں لکھا ہے کہ "کچھ قابل تنازع امور تھے" سب کے سب جمع پر دلالت کرتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ ایک وجہ آپ کی ذکر کرنے کے علاوہ متعدد کمیاں تھی پوسٹر میں حالانکہ تمام انواریوں نے مل کر صرف ایک وجہ بتائی جس کو ہائی لینڈی کی حماقت کہہ سکتے ہیں،


      آپ نے اپنے لیٹر پیڈ میں لکھا ہے کہ شدید اختلاف ہوگیا تھا اس لئے یہ قدم اٹھایا گیا تو ہمیں بتائیں کہ کمیٹی میں وہ کون دانشور لوگ تھے جو ان دونوں باتوں کو لےکر واویلا مچائے تھے، تاکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آگ موتنے والوں کو کمیٹی سے باہر نکالا جائے (جب کہ آپ کی بات مان لی جائے ورنہ تو چھوٹی بات کیا یہاں تو بلا وجہ ڈامر اور ڈیزل پینے والے آگ موت رہے ہیں)


     آپ نے آل رسول سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کےلئے پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضرت سید شاہ عبدالرب عرف چاند بابو صاحب قبلہ کا سہارا لیا ہے جبکہ یہ چیز خود بتاتی ہے کہ آپ کو آل رسول سے نہیں اپنی سیاست سے مطلب ہے ایک طرف سید صاحب کو بلانے سے معاہدہ ٹوٹتا ہے تو دوسری طرف سید صاحب کو مدعو کرنے سے عقیدت کا اظہار ہوتا ہے،


منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا 

بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا


اگر اتنی عقیدت و محبت تھی تو پروگرام سے چار گھنٹے پہلے کیوں تاریخ لی گئی جبکہ کوئی بھی عقیدت مند ایسا نہیں کرتا، آپ لوگوں نے سید صاحب پر زور ڈالا اور دوپہر میں حضرت کی تاریخ لےکر پریشان کیا اگر آل رسول سے محبت ہی تھی تو ایک سید صاحب کا پروگرام کینسل کرنا اور آنن فانن دوسرے سید صاحب کی تاریخ لینا کیسی محبت ہے؟ اگر سید گلزار میاں صاحب سے تکلیف نہیں تھی تو دوسرے دن کیوں نہیں گئے حضرت کے پاس معافی مانگنے کہ ایسے ایسے حالات ہوگئے تھے تو ہمیں پروگرام کینسل کرنا پڑا۔


     حالانکہ اہل علم اور حق شناس لوگوں پر واضح ہے کہ اصل وجہ یہی ہے کہ ڈاکٹر میں خارجیت سرایت کررہی ہے چونکہ گلزار ملت اس کا بائیکاٹ کرتے ہیں اس لئے یہ ان کی حسد میں جلا بھنا جارہا ہے اور اسی وجہ سے پروگرام کینسل کیا، نیز یہ کہ ہائی لینڈی نے اپنے لیٹر پیڈ سے واضح کیا تھا کہ معاہدے کے بر خلاف باہر سے بلانے کی وجہ سے پروگرام کینسل ہورہا ہے اور باہر سے آنے والے صرف سید صاحب تھے تو سید عبدالرب صاحب کو بلانا محض اپنے حسد کی بیماری پر پردہ ڈالنا ہے ورنہ اعلان کردیتے کہ جیسا معاہدہ ہوا تھا ویسے ہی پروگرام ہوگا،


جن کو رستے کی خبر ہے نہ پتہ منزل کا

قافلے کے وہی سالار ہوئے بیٹھے ہیں


    لوگوں سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر کی میٹھی میٹھی باتوں پر نہیں حقیقت پر توجہ دیں اور گمراہیت سے بچیں، ڈاکٹر کی گمراہیت تو پہلے ہی سے عیاں ہے اسی کی وجہ سے اور اسی کی صدارت میں جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء برباد ہوا اور جب وہاں سے پوربندر گجرات گیا تو اسی کی فتنہ پروری کی وجہ سے وہاں اختلاف و انتشار ہوا پھر جب وہاں سے بھگایا گیا اور علیمیہ آیا تب سے آج تک علیمیہ کو برباد کررہا ہے اور اس حالت پر لاکر رکھ دیا، آپ بھی ڈاکٹر سے مذکورہ سوالات پوچھیں اگر تھوڑی بھی غیرت اور شرم و حیا ہوگی تو جواب دے گا ورنہ نہیں، اور رہی بات مولانا نظام الدین صاحب کی تو ہم ان کی صدارت سے مطمئن نہیں اس لئے کہ ہم نے ان سے استفتاء کیا تھا کہ جو شخص عوام کے سامنے میچ دیکھتا ہے اور موبائل پر کمنٹری سنتا ہے اس سے فتوی نویسی کا کام لینا کیسا جبکہ اس کے فعل عبث پر گاؤں والے اور طلبہ بھی شاہد ہیں، اس استفتاے کا جواب آج تک نہیں آیا اور یقین بھی ہے کہ نہیں آئے گا،

      

‏ *انصاف مِرے حق میں ہوتا تو بھلا کیسے* 

 *شیشےکی عدالت میں پتھر کی گواہی تھی* 

 *کر  ڈالا   سر  مجمع  نیلام  ضمیر  اپنا* 

 *گروی تھا قلم اس کا قبضے میں سیاہی تھی* 

اس کا فیصلہ انصاف پسند سنیوں کے حوالہ کرتا ہوں

 *اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے* 

 *شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات* 


✍🏻 :- عبدالمصطفی ممبئی۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔